ممبئی4اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ملٹی پلیکس سنیما ہال کے اندرکھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ نے آج رائے ظاہر کی کہ انہیں عام قیمتوں پر فروخت کیا جانا چاہئے۔ مہاراشٹر حکومت نے عدالت کو بتایا کہ وہ جلد ہی اس معاملے پر ایک پالیسی بنائے گی۔عدلیہ کے ایک بنچ نے ایک ممبئی رہائشی شخص کی طرف سے دائر ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گذارنے مہاراشٹر کے سینما گھروں اور ملٹی پلیکس کے اندر باہر سے لائی گئی کھانے، پینے کی چیزیں لے جانے پر لگی پابندی کو چیلنج کیاہے۔بخشی کے وکیل آدتیہ پرتاپ سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ ایسی کوئی قانونی شرائط نہیں ہیں جن کی ر و سے سنیما دیکھنے والوں کو باہر سے کھانے پینے کی چیز لے جانے کی ممانعت پر مشتمل ہو ۔انہوں نے کہا کہ ملٹی پلیکس کے اندر کھانے پینے کی چیزیں بکتی تو ہیں، لیکن ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ اس پر اتفاق کرتے ہوئے جج نے کہا کہ سینما گھروں کے اندر اندر فروخت ہونے والے کھانے کی اشیاء اور پانی کی بوتلوں کی قیمت اصل قیمت میں بہت زیادہ ہوتی ہے، ہم نے خود بھی اس کا تجربہ کیا ہے ؛لہٰذا سنیما ہال کے اندر کھانے پینے کی چیز کو کم شرح پر فروخت کرنا چاہیے ۔ عدالت نے کہا کہ اگر ملٹی پلیکس میں لوگوں کو باہر سے لائی گئی کھانے پینے کی چیزیں اندر نہیں لے جانے دیا جاتا تو وہاں کھانے پینے کی چیزوں پر پابندی لگائی جانی چاہیے ۔جج نے کہا کہ پھر تو سنیما ہال کے اندر وینڈر بھی نہیں ہونی چاہیے ۔ سرکاری وکیل نے آج عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار اور ملٹی پلیکس مالکان کی تجاویز پر غور کرنے کے بعد ریاستی حکومت جلد ہی اس معاملہ پر پالیسی تیار کرے گی ۔ ایم او اے سنیما مالکان کی ایک ملکی تنظیم ہے ۔ بنچ اس صورت میں اگلی سماعت 12 جون کو کرے گا۔